جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں
میری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیں
راہ گم کردہ ہوں کچھ اس کو خبر ہے کہ نہیں
اس کی پلکوں پہ ستاروں کا گزر ہے کہ نہیں
دل سے ملتی تو ہے اک راہ کہیں سے آ کر
تیز ہو دستِ ستم دے بھی شراب اے ساقی
تیغ گردن پہ صحیح جام سپر ہے کہ نہیں
روئے مشرق کی قسم ہم کو ہے اتنا معلوم
شبِ دوراں ترے پہلو میں سحر ہے کہ نہیں
میں جو کہتا تھا سوا ے رہبرِ کوتاہ خرام
تیری منزل بھی مری گردِ سفر ہے کہ نہیں
اہلِ تقدیر ! یہ ہے معجزۂ دستِ عمل
جو خزف میں نے اُٹھایا وہ گہر ہے کہ نہیں
دیکھ کلیوں کا چٹخنا سرِ گلشن صیاد
زمزمہ سنج میرا خونِ جگر ہے کہ نہیں
ہم روایات کے منکر نہیں لیکن مجروحؔ
سب کی اور سب سے جدا اپنی ڈگر ہے کہ نہیں
مجروح سلطانپوری
No comments:
Post a Comment