کسی بے درد کو ظلم و ستم کا شوق جب ہو گا
یہ میرا ایک دل لاکھوں دلوں میں منتخب ہو گا
ہمارا اور ان کا سامنا محشر میں جب ہو گا
وہ جلسہ وہ سماں، وہ معرکہ بھی کچھ عجب ہو گا
کوئی زندہ رہے دنیا میں کیا اگلی امیدوں پر
لڑکپن جا چکا ان کا، جوانی آنے والی ہے
کبھی مجھ پر جفا ہوتی تھی، لیکن قہر اب ہو گا
تمہارے وصل کی ساعت ہمیشہ ٹلتی رہتی ہے
خدا جانے کہاں ہو گا، کسے معلوم کب ہو گا
وہ اپنے وعدۂ دیدار سے پھرنے کو پھر جائیں
مگر یہ تو سمجھ لیں بے وفا کس کا لقب ہو گا
مجھے اظہارِ الفت پر یہ ان سے داد ملتی ہے
تمہارا عشق اک دن میری ذلت کا سبب ہو گا
بھری محفل میں ان کو چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی
جناب نوحؔ تم سا بھی نہ کوئی بے ادب ہو گا
نوح ناروی
No comments:
Post a Comment