صفحات

Sunday, 8 January 2017

اپنی طرح ہی کوئی پریشانیوں میں تھا

اپنی طرح ہی کوئی پریشانیوں میں تھا
اے شہرِ درد! جو بھی تِرے بانیوں میں تھا
میں بھی پھِرا ہوں کشتئ عمرِ رواں لیے
وینس کا سارا شہر کھلے پانیوں میں تھا
کیا میرے زخم دیکھتی دنیا کہ ہر کوئی
مصروف اپنی چاک گریبانیوں میں تھا
اے دل! تِرے سکوں سے تِری رونقیں گئیں
دریا کا سارا حسن ہی طغیانیوں میں تھا
صیاد و گل فروش ہی خوش بخت ہیں فرازؔ
جو بھی چمن پرست تھا زِندانیوں میں تھا

احمد فراز

No comments:

Post a Comment