صفحات

Sunday, 8 January 2017

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے

وصل کا اس کے دلِ زار تمنائی ہے
نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے
قطع امید نے دل کر دئیے یکسُو، صد شکر
شکل مدت میں یہ اللّٰہ نے دکھلائی ہے
قوتِ دستِ خدائی ہے شیکبائی میں 
وقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے
ڈر نہی غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہے
ہم نے جب بھی کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے
نشہ میں چور نہ ہوں جھانجھ میں مخمور نہ ہوں
پند یہ پیرِ خرابات نے فرمائی ہے
نظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئی
بعد موت کے تما مِری بر آئی ہے
بات سچ کہی، اور انگلیاں اٹھیں سب کی
سچ میں حالی کوئی رسوائی سی رسوائی ہے

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment