صفحات

Tuesday, 10 January 2017

نامرادی کا یہ عالم بھی تو اے دل نہ رہے

نامرادی کا یہ عالم بھی تو اے دل نہ رہے
ہم تو اب ترکِ تعلق کے بھی قابل نہ رہے
بزمِ مقتل جو سجے کل تو یہ امکان بھی ہے
ہم سے بسمل تو رہیں آپ سا قاتل نہ رہے
یوں تو ہر شخص ہے اندیشۂ رہزن کا اسیر
کارواں نیتِ رہبر سے بھی غافل نہ رہے
آج اس نے شرفِ ہم سفری بخشا تھا
اس طرح سے کہ مجھے خواہشِ منزل نہ رہے
سامنے تُو ہو تو سو خواہشیں جاگ اٹھتی ہیں
کاش اب کے مِری آنکھوں میں مِرا دل نہ رہے
لوگ کس طرح سے آئینہ صفت جیتے ہیں
میں تو مر جاؤں اگر کوئی مقابل نہ رہے
جو بھی ہو صاحبِ محفل وہی کہتا ہے فراؔز
کہ وہ اٹھ جائے جو محفل سے تو محفل نہ رہے

احمد فراز

1 comment: