صفحات

Friday, 6 January 2017

وہ شام ڈھلتی رہی خون کی روانی میں

وہ شام ڈھلتی رہی خون کی روانی میں 
فرات ڈوبتا جاتا تھا اپنے پانی میں
جو تیرے بعد تِرے کارواں پہ اتری تھی 
ٹھہر گئی ہے وہی رات زندگانی میں
زمیں پہ اس کی حنا بندیوں کا موسم تھا
جسے بلایا گیا اس کی نوجوانی میں
جو آنکھ تیری محبت میں نم نہیں ہوتی 
وہ ڈوب جائے گی خود اپنی رائیگانی میں
نہ پوچھ کس لیے آنکھوں سے خون جاری ہے
مجھے یہ دکھ ہے کہ میں کیوں نہیں کہانی میں

فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment