یہ آسمان کوئی فسانہ تو ہے نہیں
ہم اس کو دیکھتے ہیں گرانا تو ہے نہیں
پہنیں گے خاکدان کا زربفت پیرہن
یاروں نے اس کا دام چکانا تو ہے نہیں
مٹھی میں ایک زہر ہے دنیا کہیں جسے
مانگا ہے عشق بھی من و سلوٰی کے نام پر
اترے گا آسماں سے کمانا تو ہے نہیں
دو چار لوگ ہیں جو مِری آستیں میں ہیں
میرے خلاف سارا زمانہ تو ہے نہیں
گھر جانا چاہتے ہیں کہ مدت ہوئی گئے
کہنے کی اور بات ہے جانا تو ہے نہیں
کہتا ہوں عشق سے کہ مِری جان چھوڑ دے
لگتا ہے مان جائے گا مانا تو ہے نہیں
کیا علم چارسو سے نکل جائے کس طرف
آوارگی کا کوئی ٹھکانہ تو ہے نہیں
فیصل عجمی
No comments:
Post a Comment