صفحات

Friday, 6 January 2017

کتنے خوش ہیں مری پناہ میں سانپ

کتنے خوش ہیں مِری پناہ میں سانپ 
خواب میں سانپ خوابگاہ میں سانپ
اب ہمیں زہر بھی نہیں ملتا
ڈھونڈتے پھر رہے ہیں راہ میں سانپ
عشق نے ڈس لیا ہے زہری کو 
مر رہا ہے کسی کی چاہ میں سانپ
کتنا آباد یہ خرابہ ہے 
ہر طرف ہیں دلِ تباہ میں سانپ
راہ کے پیچ و خم پہ لکھا تھا 
سرسرانے لگے نگاہ میں سانپ
آستیں سے نکل کے آیا تھا 
چھپ گیا ہے مِری کلاہ میں سانپ
دشمنوں کی تجھے ضرورت کیا 
کم نہیں ہیں تِری سپاہ میں سانپ
مار ڈالوں کہ چھوڑ دوں فیصلؔ 
سانپ اور دل کی بارگاہ میں سانپ 

فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment