ترکِ تعلقات کا اس کو گماں نہ تھا
چھوڑی زمیں تو سر پہ مِرے آسماں نہ تھا
دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے کل شب یہ معجزہ
بجلی کڑک رہی تھی مگر آشیاں نہ تھا
تحریر اس کی اس کی طرح سرد سرد تھی
نا مہربانیاں سبھی اس کی قبول ہیں
اس کا گِلہ نہیں ہے کہ وہ مہرباں نہ تھا
روتا لپٹ کے جس کے میں دیوار و در کے ساتھ
اس شہر بھر میں ایسا تو کوئی مکاں نہ تھا
اُس نے مِرا وجود کیا تار تار یوں
گزرے دنوں کا ایک بھی نام و نشاں نہ تھا
یہ عمر جس طرح سے بھی گزری گزر گئی
اس دشتِ نارسا میں کہیں سائباں نہ تھا
قسمت نے لکھ دیا تھا یہ منظر بھی دیکھنا
بستی اجڑ چکی تھی کوئی نوحہ خواں نہ تھا
صفؔدر بچھڑ کے مجھ سے وہ اب پُر سکون ہے
سچ ہے کہ اس کو یوں بھی تو خوفِ خزاں نہ تھا
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment