ستارے ہیں ابھی شب کے سفر میں
کئی چہرے ہیں سوچوں کے بھنور میں
کبھی برسا تھا جو تلخابۂ ابر
اسی کا رس رہا برگ و ثمر میں
جو پلکوں سے پلٹ جاتے ہیں آنسو
کبھی آفاقِ نادیدہ کے بھی رنگ
اترتے ہیں مِری حدِ نظر میں
ہوا ہے دھوپ سے احساس ورنہ
کوئی سایہ نہیں ہوتا شجر میں
پرندے زخم کچھ پچھلی رتوں کے
چھپائے پھر رہے ہیں بال و پر میں
نگاہوں میں ابھی تک ہے وہ منظر
ستارہ جس طرح دامِ سحر میں
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment