صفحات

Tuesday, 10 January 2017

لفظ کچھ میر کے اڑاتے ہیں

لفظ کچھ میر کے اڑاتے ہیں
شعر کی شاخ پر بٹھاتے ہیں
تتلیاں یاد کی جب آتی ہیں
درد کے پھول ہم کھلاتے ہیں
دل وغیرہ کا اب یہاں کیا کام 
رسم جینے کی ہم نبھاتے ہیں
جانتے ہیں ہواؤں کو پھر بھی 
ہم چراغوں کی لو بڑھاتے ہیں
کیسے لفظوں کو مار دیتے ہیں 
کن زمینوں میں جا دباتے ہیں
جانتے ہی نہیں یہ ماضی کو 
آئینے حال ہی دکھاتے ہیں
کہہ کے دیکھو کہ ہم تو شاعر ہیں 
لوگ کیسے ہنسی اڑاتے ہیں
کتنی ذلت سے پھر اٹھاتے ہیں 
سر پہ عزت سے جب بٹھاتے ہیں

جاوید احمد

No comments:

Post a Comment