ہر قدم پر نارسائی کا تماشا کیجئے
کب تک آخر ایک پرچھائیں کا پیچھا کیجئے
پاس آتے ہیں بدل جاتے ہیں چہروں کے نقوش
دور سے ان چاند کے ٹکڑوں کو دیکھا کیجئے
مان کر چلیے کہ وہ ہے پارسا بھی نیک بھی
ڈھونڈ لیجے ان نگاہوں میں کوئی حرفِ وفا
ہاں سکوں کے واسطے خود سے بھی دھوکا کیجئے
بہتے پانی پر لکھی تحریر تھے وعدے سبھی
ہاتھ آئے گا نہ اب کچھ لاکھ ڈھونڈا کیجئے
بشر نواز
No comments:
Post a Comment