صفحات

Tuesday, 10 January 2017

ربط ہر بزم سے ٹوٹے تیری محفل کے سوا

ربط ہر بزم سے ٹوٹے تیری محفل کے سوا
رنجشیں سب کی گوارا ہیں تیرے دل کے سوا
صرف آواز سے پہچان لیں ہم تو ان کو
یہ کھنک اور کہاں، لہجۂ قاتل کے سوا
ایسے پہلو میں سما جاؤ کہ جیسے دل ہو
چین ملتا ہے کہاں موج کو ساحل کے سوا
چیخ ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آتی ہے
کون سہتا ہے بھلا وار مقابل کے سوا
خشک پتوں سے چھڑا لیتی ہیں شاخیں دامن
کس نے یادوں سے نبھائی ہے یہاں دل کے سوا

بشر نواز

No comments:

Post a Comment