لفظ کچھ میر کے اڑاتے ہیں
شعر کی شاخ پر بٹھاتے ہیں
تتلیاں یاد کی جب آتی ہیں
درد کے پھول ہم کھلاتے ہیں
دل وغیرہ کا اب یہاں کیا کام
جانتے ہیں ہواؤں کو پھر بھی
ہم چراغوں کی لو بڑھاتے ہیں
کیسے لفظوں کو مار دیتے ہیں
کن زمینوں میں جا دباتے ہیں
جانتے ہی نہیں یہ ماضی کو
آئینے حال ہی دکھاتے ہیں
کہہ کے دیکھو کہ ہم تو شاعر ہیں
لوگ کیسے ہنسی اڑاتے ہیں
کتنی ذلت سے پھر اٹھاتے ہیں
سر پہ عزت سے جب بٹھاتے ہیں
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment