منقبت بر مولائے علیؓ
قائم جو حشر تک ہے امامت علی کی ہے
ساری حکومتوں پہ حکومت علیؓ کی ہے
میدان میں غدیر کے اعلانِ مصطفیٰﷺ
برتر ہر اک ولی سے ولایت علیؓ کی ہے
قاتل کو جامِ شیریں پلانے کا حکم تھا
تحقیق اس کے شجرے کی لازم ہے کیجئے
جس دل میں اک ذرا سی کدورت علیؓ کی ہے
ان کے لیے جو عشق علیؓ پہ ہوئے نثار
کوثر پہ منتظر ہاں شفاعت علیؓ کی ہے
خیرات دیں رکوع میں تو اللہ کے رفیق
قرآں میں ہَل اَتیٰ کی بھی آیت علیؓ کی ہے
معراج میں وہ نفسِ محمدﷺ کی شکل میں
شاہد ہے خود علی تو شہادت علیؓ کی ہے
ہم نے قدم قدم پہ ہے دیکھا یہ معجزہ
ٹکڑے ہوئے بدن میں بھی طاقت علیؓ کی ہے
اُمت بھُلا چکی ہے یہ فرمانِ مصطفیٰﷺ
ہادی ہے خود علی اور ہدایت علیؓ کی ہے
اے صاحبان جبہ و دستار ہوشیار
یہ منبرِ رسولﷺ، وراثت علیؓ کی ہے
اِس رخ سے بھی تو دیکھئے قرآن کو کبھی
نعتِ رسول پاکﷺ ہے مدحت علیؓ کی ہے
دشمن ہمارے خون کا پیاسا ہے اس لیے
صفؔدر ہمارے خوں میں محبت علیؓ کی ہے
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment