صفحات

Monday, 9 January 2017

اس بار تو اپنے پاس تھے ہم

اس بار تو اپنے پاس تھے ہم
پھر کس کیلئے اداس تھے ہم
آنی تھی ہمیں رفوگری بھی
اک دوسرے کا لباس تھے ہم
کچلے گئے جب بھی سر اٹھایا
فٹ پاتھ کی ایسی گھاس تھے ہم
ممنوع قرار پا گئے ہیں
جس بزم میں حرفِ خاص تھے ہم
جلتے رہے، ہر ہوا کے آگے
کیا جانئے کس کی آس تھے ہم

پروین شاکر

No comments:

Post a Comment