اس بار تو اپنے پاس تھے ہم
پھر کس کیلئے اداس تھے ہم
آنی تھی ہمیں رفوگری بھی
اک دوسرے کا لباس تھے ہم
کچلے گئے جب بھی سر اٹھایا
ممنوع قرار پا گئے ہیں
جس بزم میں حرفِ خاص تھے ہم
جلتے رہے، ہر ہوا کے آگے
کیا جانئے کس کی آس تھے ہم
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment