تمہارے جانے کے بعد میں نے
وہ شام آنچل میں باندھ لی
اور اس کی خوشبو کے ساتھ
باقی تمام شب اس طرح بسر کی
کہ جیسے بارش کے بازوؤں میں
تمہارے لہجے کی نرم شبنم
مجھے بھگوتی رہی ہے شب بھر
تمہاری باتوں کی سبز مہکار اپنے اندر
مجھے سموتی رہی ہے شب بھر
تمہارے ہاتھوں کا لمسِ پیہم
مِرے بدن کو گلاب کرتا رہا ہے شب بھر
زمین کو ماہتاب کرتا رہا ہے شب بھر
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment