Monday, 9 January 2017

سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی

سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی
مِرے وجود پر تیری گواہی اور ہو گئی
رفو گرانِ شہر بھی کمال لوگ تھے مگر
ستارہ ساز ہاتھ میں قبا ہی اور ہو گئی
بہت سنبھل کے چلنے والی تھی پر اب کے بار تو
وہ گل کھِلے کہ شوخئ صبا ہی اور ہو گئی
یہ میرے ہاتھ کی لکیریں کھُل رہی تھیں یا کہ خود
شگن کی رات خوشبوئے حنا ہی اور ہو گئی
اندھرے میں تھے جب تلک زمانہ سازگار تھا
چراغ کیا جلا دیا، ہوا ہی اور ہو گئی
نجانے دشمنوں کی کون سی بات یاد آ گئی
لبوں تک آتے آتے بد دُعا ہی اور ہو گئی

پروین شاکر

No comments:

Post a Comment