صفحات

Monday, 16 January 2017

یہ جسم کا قصہ ہے نہ پوشاک کا قصہ

یہ جسم کا قصہ ہے نہ پوشاک کا قصہ
انساں ہے فقط آنکھ کا، ادراک کا قصہ 
افہام بھی بے سود ہے تفہیم بھی بے سود
نہ لکھا اگر دیدۂ نمناک کا قصہ
دریا کے کنارے ہوں مگر تشنہ دہن ہوں
ہے خشک بہت دیکھو میری خاک کا قصہ
اے طورِ تجلی مجھے تم پهر سے سناؤ
اس چشمِ تمنا، رخِ بے باک کا قصہ
نالاں ہو بہت گریہ و ماتم کی صدا سے
سر پیٹو گے گر سن لیا افلاک کا قصہ
درویش تو یعقوب کے آنسو ہی لکھے گا
تم کہتے رہو مصر کی املاک کا قصہ

رضا نقوی

No comments:

Post a Comment