یہ جسم کا قصہ ہے نہ پوشاک کا قصہ
انساں ہے فقط آنکھ کا، ادراک کا قصہ
افہام بھی بے سود ہے تفہیم بھی بے سود
نہ لکھا اگر دیدۂ نمناک کا قصہ
دریا کے کنارے ہوں مگر تشنہ دہن ہوں
اے طورِ تجلی مجھے تم پهر سے سناؤ
اس چشمِ تمنا، رخِ بے باک کا قصہ
نالاں ہو بہت گریہ و ماتم کی صدا سے
سر پیٹو گے گر سن لیا افلاک کا قصہ
درویش تو یعقوب کے آنسو ہی لکھے گا
تم کہتے رہو مصر کی املاک کا قصہ
رضا نقوی
No comments:
Post a Comment