صفحات

Monday, 9 January 2017

کیا تماشہ ہے کسی بات کا مقدور نہیں

کیا تماشا ہے، کسی بات کا مقدُور نہیں
اور پھر یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مجبور نہیں
وقتِ ہمت ہے یہی، اے قدمِ شوق سنبھل
دیکھ وہ منزلِ مقصود ہے، کچھ دور نہیں
خود لگا رکھی ہے یہ قیدِ تعیّن تُو نے
ورنہ وہ کعبہ و بت خانہ میں محصور نہیں
چل تُو ہی حوصلہ کر، رسمِ کہن کر تازہ
ارنی گو کوئی اے رازؔ سرِ طور نہیں

راز چاند پوری

No comments:

Post a Comment