کیا تماشا ہے، کسی بات کا مقدُور نہیں
اور پھر یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مجبور نہیں
وقتِ ہمت ہے یہی، اے قدمِ شوق سنبھل
دیکھ وہ منزلِ مقصود ہے، کچھ دور نہیں
خود لگا رکھی ہے یہ قیدِ تعیّن تُو نے
چل تُو ہی حوصلہ کر، رسمِ کہن کر تازہ
ارنی گو کوئی اے رازؔ سرِ طور نہیں
راز چاند پوری
No comments:
Post a Comment