بھری محفل میں تنہائی بہت ہے
کسی کی یاد پھر آئی بہت ہے
سرابوں میں سفر کرتے ہوئے بھی
حقیقت کی سزا پائی بہت ہے
اب ان آنکھوں میں تصویر اپنی آ دیکھ
تیرے حصے میں ہر قطرہ ہے دریا
میرے حصے میں پیاس آئی بہت ہے
مثالِ زلف میرا نقش بھی ہو
بکھر جانے میں زیبائی بہت ہے
چلو نادؔر! سنا ہے آسماں پر
صداقت کی پذیرائی بہت ہے
میکس بروس نادر
بہت عمدہ
ReplyDeleteحضور آپکی تو کیا ہی بات ہے۔۔۔ بھئی واہ😍
ReplyDelete