صفحات

Saturday, 7 January 2017

یوں بھی جینے کی نئی راہ نکالی میں نے

یوں بھی جینے کی نئی راہ نکالی میں نے
آپ دیوارِ انا خود پہ گرا لی میں نے
بعض احباب تو سچ مچ کا گداگر سمجھے
اپنی حالت ہی فقیروں کی بنا لی میں نے
کچھ نہ بن پایا تو کشکول میں خود کو ڈالا
خالی جانے نہ دیا گھر سے سوالی میں نے
اب کوئی درد اذیت نہیں دیتا مجھ کو
جتنی تکلیف اٹھانی تھی اٹھا لی میں نے

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment