صفحات

Saturday, 7 January 2017

اک طاق شکاری کے نشانے کی طرح تھا

اک طاق شکاری کے نشانے کی طرح تھا
وہ شخص بھی لگتا ہے زمانے کی طرح تھا
سینے پہ یوں ہی سانپ نہیں لوٹ رہے تھے
اک راز مِرے دل میں خزانے کی طرح تھا
نشہ سا کوئی لمس کا اترا تھا بدن میں
وہ لمس تِرے ہاتھ ملانے کی طرح تھا
جس غم کے سبب سارے زمانے سے خفا ہوں
وہ غم جو تِرے چھوڑ کے جانے کی طرح تھا
وہ بار تھا سر پہ کہ زمیں کانپ رہی تھی
وہ بار جو احسان اٹھانے کی طرح تھا

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment