اک طاق شکاری کے نشانے کی طرح تھا
وہ شخص بھی لگتا ہے زمانے کی طرح تھا
سینے پہ یوں ہی سانپ نہیں لوٹ رہے تھے
اک راز مِرے دل میں خزانے کی طرح تھا
نشہ سا کوئی لمس کا اترا تھا بدن میں
جس غم کے سبب سارے زمانے سے خفا ہوں
وہ غم جو تِرے چھوڑ کے جانے کی طرح تھا
وہ بار تھا سر پہ کہ زمیں کانپ رہی تھی
وہ بار جو احسان اٹھانے کی طرح تھا
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment