صفحات

Saturday, 25 July 2020

میری آنکھوں کے حلقے رہ گئے تھے

میری آنکھوں کے حلقے رہ گئے تھے
یہی تالاب "سوکھے" رہ گئے تھے
چلو کچھ تو "حیا" کرتے ہماری
بھلا ہم لوگ کتنے رہ گئے تھے
اسے "چھو" کر بھی دیکھا جا چکا تھا
اور اک ہم تھے کہ ڈرتے رہ گئے تھے
پہنچنے والے "واپس" آ رہے ہیں
چلو اچھا ہے پیچھے رہ گئے تھے
بہت جلدی "کنارہ" کر لیا تھا
مگر تم پھر بھی اچھے رہ گئے تھے
میں اتنی دیر میں کیا اس سے کہتا
فقط دو چار "گھنٹے" رہ گئے تھے

دانش نقوی

No comments:

Post a Comment