صفحات

Saturday, 25 July 2020

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے
وگرنہ اس کا اداسی پہ بس تو چلتا ہے
اسے یقین ہی اتنا ہے میرے سینے پر
کسی کا رونا ہو میرے گلے سے لگتا ہے
تمہارا سب سے برا خواب بھی نہیں ویسا 
ہمارے ساتھ "حقیقت" میں جیسے ہوتا ہے
جو لوگ خوش ہیں محبت میں ان سے پوچھوں گا
یہ کاروبار "سہولت" سے کیسے چلتا ہے؟
میں اس کے ہاتھ کو چوموں گا پھر بتاؤں گا
کہ اس کا جسم دہکتا ہے یا مہکتا ہے؟

دانش نقوی

No comments:

Post a Comment