صفحات

Saturday, 25 July 2020

اتنی شدت بھی کیا پیاس میں تھی

اتنی شدت بھی کیا پیاس میں تھی 
رات اتری ہوئی گلاس میں تھی 
اس کا "میں" مستند حوالہ تھا 
اس کی خوشبو مِرے لباس میں تھی 
کھا گئی وہ تِری "دعا" کا اثر 
اِک رعونت جو التماس میں تھی 
اس کی آنکھوں میں پڑھ رہا تھا میں 
شاعری جو ابھی قیاس میں تھی

ناز مظفرآبادی 

No comments:

Post a Comment