صفحات

Saturday, 25 July 2020

جو گھر تھا وہ مکاں ہونے لگا ہے

جو گھر تھا وہ مکاں ہونے لگا ہے 
قفس اب "آشیاں" ہونے لگا ہے 
وہ جس کو بولنا ہم نے سکھایا 
عدو کا "ترجماں" ہونے لگا ہے
تمہاری دوستی مہنگی پڑے گی 
مخالف اِک "جہاں" ہونے لگا ہے 
کلامِ ناز "وہ" سنتے کسی دن 
مگر ایسا کہاں ہونے لگا ہے 

ناز مظفرآبادی 

No comments:

Post a Comment