صفحات

Saturday, 25 July 2020

ہر پری وش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں

ہر پری وش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں
کتنا سودائی ہوں، کیا تسلیم کر لیتا ہوں میں
مے چُھٹی، پر گاہے گاہے اب بھی بہرِ احترام
دعوتِ "آب و ہوا" تسلیم کر لیتا ہوں میں
بے وفا میں نے، محبت سے کہا تھا آپ کو
لیجیئے، اب با وفا تسلیم کر لیتا ہوں میں
جو اندھیرا تیری زلفوں کی طرح شاداب ہو
اس اندھیرے کو ضیا تسلیم کر لیتا ہوں میں
جرم تو کوئی نہیں سرزد ہوا مجھ سے حضور
با وجود اس کے سزا تسلیم کر لیتا ہوں میں
جب بغیر اس کے نہ ہوتی ہو خلاصی اے عدم
رہزنوں کو رہنما تسلیم کر لیتا ہوں میں

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment