دلِ تباہ کو جب لطفِ غم پہنچتا ہے
تو کچھ سرورِ محبت بہم پہنچتا ہے
ہے اس مقام پہ اب عظمتِ ہوس کا گزر
جہاں خلوص بھی پہنچے تو کم پہنچتا ہے
وہ راہ جس کو رہِ مستقیم کہتے ہیں
ورائے سرحدِ ادراک کیا مجالِ خِرد؟
وہاں تو صرف جنوں کا قدم پہنچتا ہے
دلِ زلیخا بھی چاکِ قبائے یوسف بھی
کہاں کہاں تیرا دستِ کرم پہنچتا ہے
جنابِ داورِ محشر! حساب جاری ہو
عدم کی فکر نہ کیجیے عدم پہنچتا ہے
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment