صفحات

Tuesday, 21 July 2020

آسماں کو زمین پر رکھ دے

آسماں کو زمین پر رکھ دے
وسوسے بھی یقین پر رکھ دے
وہ حفاظت کرے گا ساماں کی
تُو امانت "امین" پر رکھ دے
بس "اداکاری" کام تیرا ہے
داد کو شائقین پر رکھ دے
ایک تعمیر کر مکاں یہاں پر
گھر کا بننا مکین پر رکھ دے
شاعری کر کلیم تُو دل سے 
واہ کو سامعین پر رکھ دے

محمد کلیم

No comments:

Post a Comment