آسماں کو زمین پر رکھ دے
وسوسے بھی یقین پر رکھ دے
وہ حفاظت کرے گا ساماں کی
تُو امانت "امین" پر رکھ دے
بس "اداکاری" کام تیرا ہے
ایک تعمیر کر مکاں یہاں پر
گھر کا بننا مکین پر رکھ دے
شاعری کر کلیم تُو دل سے
واہ کو سامعین پر رکھ دے
محمد کلیم
No comments:
Post a Comment