کوئی جادو نہ فسانہ نہ فسوں ہے، یوں ہے
عاشقی سلسلۂ کارِ جُنوں ہے، یوں ہے
تو نہیں ہے تو تِرے ہجر کی وحشت ہی سہی
اب یہ وحشت ہی مِرے دل کا سکوں ہے یوں ہے
کچھ نہیں کہنا بھی کہہ دیتا ہے سارا احوال
جب سے دیکھا ہے محبت کو عداوت کرتے
تب سے ہونٹوں پہ مِرے ہاں ہے نہ ہوں ہے یوں ہے
زندگی بھر کی رفاقت میں گنوا دی قربت
گھر میں اب شعلۂ تنہائی فزوں ہے، یوں ہے
اب تِرے ساتھ مِرا جی نہیں لگتا سائیں
تُو نے پوچھا تھا نمی آنکھ میں کیوں ہے یوں ہے
آج بھی کل کی طرح دیر سے گھر آئے گا وہ
پھر بہانے وہی دہرائے گا یوں ہے، یوں ہے
ریحانہ روحی
No comments:
Post a Comment