صفحات

Friday, 24 July 2020

وہ عادت ہے تو عادت سے کنارہ ہو بھی سکتا ہے

وہ عادت ہے تو عادت سے، کنارہ ہو بھی سکتا ہے
مگر اس ساری کوشش میں، خسارہ ہو بھی سکتا ہے
رہیں گے ساتھ پھر بھی ہم، محبت مر گئی کیا غم؟
کہ مصنوعی تنفس پہ، گزارا ہو بھی سکتا ہے
اگر آنکھیں نہ بھر آئیں، تو دل مٹھی میں آئیگا
ہوا ہے حال جو میرا، تمہارا ہو بھی سکتا ہے
کھلی آنکھوں میں ٹہرا خواب کیسے ٹوٹ سکتا ہے
گماں یہ زندگی بھر کا، سہارا ہو بھی سکتا ہے
جو اتنی جگمگاہٹ دیکھتے ہو آس پاس اپنے
یہ میری آنکھ سے ٹوٹا، ستارہ ہو بھی سکتا ہے
ہمیں حیرت سے مت دیکھو، اب ایسـا کیا کِیا ہم نے
زمینی عشق ہے صاحب، دوبارہ ہو بھی سکتا ہے

عارفہ شہزاد

No comments:

Post a Comment