صفحات

Saturday, 25 July 2020

اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے

اے شبِ ہجر اب مجھے صبحِ وصال چاہیے
تازہ غزل کے واسطے، تازہ خیال چاہیے
اے مِرے چارہ گر! تِرے بس میں نہیں معاملہ
صورتِ حال کے لیے واقفِ حال چاہیے
اہلِ خرد کو آج بھی اپنے یقین کے لیے
جس کی مثال ہی نہیں، اس کی مثال چاہیے
اس کی رفاقتوں کا ہجر جھیلئے کب تلک سلیم
اپنی طرح سے اب مجھے وہ بھی نڈھال چاہیے

سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment