صفحات

Saturday, 25 July 2020

وہ جو مبتلا ہے محبتوں کے عذاب میں

وہ جو مبتلا ہے محبتوں کے عذاب میں
کوئی پھوٹتا ہوا 'آبلہ' ہے حباب میں
میرا عشق شرطِ وصال سے رہے متصل
نہیں دیکھنا مجھے خوابِ شب، شبِ خواب میں
جو 'کشید' کرنے کا 'حوصلہ' ہے تو کیجیۓ
کہ ہزار طرح کی راحتیں ہیں عذاب میں
یہ طوافِ کعبہ، یہ 'بوسہ' سنگِ سیاہ کا
یہ تلاش کس کی ہے پتھروں کے حجاب میں
بڑی 'لذتیں' ہیں 'گناہ' میں جو نہ کیجیۓ
جو نہ پیجیۓ تو عجب نشہ ہے شراب میں
مِرے عذر ہائے گناہ جب ہوئے مسترد
تو 'دلیل' کیسی دفاعِ کارِ 'ثواب' میں

سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment