صفحات

Friday, 24 July 2020

جسم کی کچھ اور ابھی مٹی نکال

جسم کی کچھ اور ابھی مٹی نکال
اور ابھی گہرائی سے پانی نکال
اے خدا میری رگوں میں دوڑ جا
شاخِ دل پر اک ہری پتی نکال
بھیج پھر سے اپنی آوازوں کا رزق
پھر مِرے صحرا سے اک بستی نکال
مجھ سے ساحل کی محبت چھین لے
میرے گھر کے بیچ اک ندی نکال
میں سمندر کی تہوں میں قید ہوں
میرے اندر سے کوئی کشتی نکال

فرحت احساس

No comments:

Post a Comment