صفحات

Friday, 24 July 2020

مسلسل اشک باری ہو رہی ہے

مسلسل اشک باری ہو رہی ہے
مِری مٹی بہاری ہو رہی ہے
دِیے کی ایک لو اور تختۂ شب
عجب صورت نگاری ہو رہی ہے
یہ میرا کچھ نہ ہونا درج کر لو
اگر مردم شماری ہو رہی ہے
ذرا ہاتھوں میں میرے ہاتھ دینا
بڑی بے اختیاری ہو رہی ہے
ہم اپنے آپ سے بچھڑے ہوئے ہیں
تبھی تو اتنی خواری ہو رہی ہے
وہی پھر یک قلم منسوخ ہوں میں
کتاب عشق جاری ہو رہی ہے
نہیں ہوتی یہ ہرجائی کسی کی
تو کیوں دنیا ہماری ہو رہی ہے
سناؤ شعر اپنے فرحت احساس
یہ شب کیا خوب قاری ہو رہی ہے

فرحت احساس

No comments:

Post a Comment