مسلسل اشک باری ہو رہی ہے
مِری مٹی بہاری ہو رہی ہے
دِیے کی ایک لو اور تختۂ شب
عجب صورت نگاری ہو رہی ہے
یہ میرا کچھ نہ ہونا درج کر لو
ذرا ہاتھوں میں میرے ہاتھ دینا
بڑی بے اختیاری ہو رہی ہے
ہم اپنے آپ سے بچھڑے ہوئے ہیں
تبھی تو اتنی خواری ہو رہی ہے
وہی پھر یک قلم منسوخ ہوں میں
کتاب عشق جاری ہو رہی ہے
نہیں ہوتی یہ ہرجائی کسی کی
تو کیوں دنیا ہماری ہو رہی ہے
سناؤ شعر اپنے فرحت احساس
یہ شب کیا خوب قاری ہو رہی ہے
فرحت احساس
No comments:
Post a Comment