صفحات

Saturday, 25 July 2020

خواب کی جادو گری رہتی ہے

خواب کی جادو گری رہتی ہے
نیند آنکھوں میں بھری رہتی ہے
جیسے رہتا ہی نہیں ہوں میں یہاں
اک عجب بے خبری رہتی ہے
ہم خیالوں میں سفر کرتے ہیں
ہم سفر دربدری رہتی ہے
دل ہے وہ آئینہ خانہ جس میں
اک عجب عکس گری رہتی ہے
خشک ہو جاتے ہیں پتے لیکن
شاخ امکاں تو ہری رہتی ہے
روح کے زخم کہاں بھرتے ہیں
عمر بھر چارہ گری رہتی ہے
ختم ہوتا ہے کہاں کار جہاں
اک نہ اک دردِ سری رہتی ہے

کاشف حسین غائر

No comments:

Post a Comment