صفحات

Saturday, 25 July 2020

کون تھا جس نے اداسی کی پذیرائی کی

کون تھا جس نے اداسی کی پذیرائی کی
کیسے بنیاد پڑی شہر میں تنہائی کی؟
روز و شب اپنے بکھرنے میں ہی مصروف ہوں میں
اتنا مصروف کہ فرصت نہیں یکجائی کی
ڈوب بھی سکتے ہیں یہ سطح پہ رہنے والے
ان سے باتیں نہ کیا کیجیے گہرائی کی
بند آنکھوں سے بھی ہر وقت نظر آتا ہے
کیسا منظر ہے ضرورت نہیں بینائی کی
اجنبی اپنے لیے ہوں کہ زمانے کے لیے
دیکھتا رہتا ہوں تصویر شناسائی کی
اس تماشے کو خدا دیکھنے والا ہے بہت
کیا ضرورت ہے کسی اور تماشائی کی

کاشف حسین غائر

No comments:

Post a Comment