صفحات

Saturday, 25 July 2020

نظر کر پیرِ مے خانہ ہماری بے قراری پر

 نظر کر پیرِ مے خانہ، ہماری بے قراری پر

کہ مستی کو فضیلت ہے فتورِ ہوشیاری پر

بہ سبحانِ توئی جاناں، برابر ناز بنتا ہے

تِرا پروردگاری پر، ہمارا انکساری پر

ہمیں کیا فکرِ آزادی کہ ہم کو قید سے پہلے

بہت پختہ 'یقیں' بخشا گیا اپنے 'شکاری' پر

تمہاری یاد سے جس میں گھڑی بھر کی نہ غفلت ہو

ہزاروں جان سے قرباں ہم ایسی دنیا داری پر

اگرچہ گریہ زاری میں ہمارا چین ہے لیکن

پڑوسی تاب کھاتا ہے ہماری شب گزاری پر

تکبر، سرکشی، غفلت، ہمیں ان سب سے کیا مطلب

زمانہ رشک کرتا ہے، ہماری خاکساری پر

کرم اے حسنِ جانانہ! ہمارا 'محترم' تُو ہے

جہاں کو فخر ہے خود پر، ہمیں ہے تیری یاری پر

تڑپ تو ٹھیک ہے لیکن ذرا سا حوصلہ تحسین

حضورِ یار جائیں گے مگر سب اپنی 'باری' پر


یونس تحسین

No comments:

Post a Comment