حسن کی جلوہ گاہ میں، شوق بھری نگاہ میں
کوئی گنہ گنہ نہیں عشق کی بارگاہ میں
سن اے ہجومِ عاشقاں! جو ہے مکانِ لامکاں
ہم تو پہنچ گئے وہاں، جسم ابھی ہے راہ میں
فتنۂ روز و شب سے کیا، شوشۂ محتسب سے کیا
ہم کو کسی غضب سے کیا، ہم ہیں تِری پناہ میں
خواہشِ رنگ و بُو نہیں، حسرت و جستجو نہیں
کوئی بھی آرزو نہیں، تُو ہے دلِ تباہ میں
آہ یہ فکرِ بیش و کم، لینے نہ دے گی ہم کو دم
عمرِ رواں ذرا سا تھم، سونے دے خوابگاہ میں
آپ سے بدگماں رہی، یعنی نِرا زیاں رہی
زندگی رائیگاں رہی، خواہشِ عز و جاہ میں
چپ او میاں فغاں نہ کر، زخموں کو یوں عیاں نہ کر
زندگی کا زیاں نہ کر، چارہ گروں کی چاہ میں
چل اٹھ کھڑا ہو یونسا، دیکھیں کہ کیا ہے ماجرا
کب سے تِرے عروج کا شور ہے مہر و ماہ میں
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment