صفحات

Friday, 10 July 2020

مکمل تو کوئی دنیا نہیں ہے

مکمل تو کوئی "دنیا" نہیں ہے
کہیں دریا کہیں صحرا نہیں ہے
مجھے تم پیڑ سمجھے تھے مسافر
مگر، دیکھو مِرا سایا نہیں ہے
میسر دوستوں کے زندگی میں
ہیں بازو تو، کوئی کاندھا نہیں ہے
یہاں اس آنکھ میں آنسو بنائیں
یہاں پر اب کوئی سپنا نہیں ہے
ہماری "تشنگی" کا کیا کرو گے؟
تمہارے پاس بھی دریا نہیں ہے
اسے نفرت کے بھی آداب سارے
وہ بس "اپنا" مجھے کہتا نہیں ہے
ہے ضدی، ریشمی دھاگہ، محبت
الجھ جائے تو پھر سُلجھا نہیں ہے
یہ فوزی کو خبر ہے وہ کہیں ہو
فقط بچھڑا، مگر بھولا نہیں ہے

فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment