صفحات

Friday, 10 July 2020

یہاں کچھ تھا بھی ویرانی سے پہلے

یہاں کچھ تھا بھی ویرانی سے پہلے
کہ حیرانی تھی حیرانی سے پہلے
کسی کی "پیاس" بہتی آ رہی تھی
مِرے دریاؤں میں پانی سے پہلے
چراغوں کے گلے بھی کاٹنے تھے
ہواؤں کو "پشیمانی" سے پہلے
تمہارے خواب کتنے قیمتی تھے
مِری آنکھوں کی ارزانی سے پہلے

احمد فرہاد

No comments:

Post a Comment