صفحات

Tuesday, 25 August 2020

چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

 چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

میں ذرا دیکھوں وہ اگلے موڑ پر ٹھہرا نہ ہو

میں بھی اک پتھر لیے تھا بزدلوں کی بھیڑ میں

اور اب یہ ڈر ہے اس نے مجھ کو پہچانا نہ ہو 

ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں 

اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو

اس کو الفاظ و معانی کا تصادم کھا گیا 

اب وہ یوں چپ ہے کہ جیسے مدتوں بولا نہ ہو 

دندناتا یوں پھرے ہے شہر کی سڑکوں پہ وہ 

جیسے پورے شہر میں کوئی بھی آئینہ نہ ہو

لوگ کہتے ہیں ابھی تک ہے وہ سرگرم سفر 

مجھ کو اندیشہ کہیں وہ راہ میں سویا نہ ہو 

مجھ کو اے منظور یوں محسوس ہوتا ہے کبھی 

جیسے سب اپنے ہوں جیسے کوئی بھی اپنا نہ ہو


حکیم منظور

No comments:

Post a Comment