صفحات

Tuesday, 25 August 2020

ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

 ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

وہ زندگی کو یہ کیسا عذاب دے کے گیا

نہ دے سکا مجھے وسعت سمندروں کی مگر

سمندروں کا مجھے اضطراب دے کے گیا

وہ کس لیے مِرا دشمن تھا جانے کون تھا وہ

جو آنکھ آنکھ مسلسل سراب دے کے گیا

خلا کے نام عطا کر کے چھاؤں کی میراث

مجھے وہ جلتا ہوا آفتاب دے کے گیا

وہ پیڑ اونچی چٹانوں پہ اب بھی تنہا ہیں

انہی کو ساری متاع سحاب دے کے گیا

ہر ایک لفظ میں رکھ کر سراب معنی کا

ہر ایک ہاتھ میں وہ اک کتاب دے کے گیا

میں کل ہوں اور تو جز میں بھی کل ہے اے منظور

بچھڑتے وقت مجھے یہ خطاب دے کے گیا


حکیم منظور

No comments:

Post a Comment